ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کل سے سورنا سودھا میں ریاستی لیجسلیچر کا دس روزہ اجلاس،ایوان کی کارروائیوں کو پرسکون چلانے کیلئے نئے ضوابط متعارف

کل سے سورنا سودھا میں ریاستی لیجسلیچر کا دس روزہ اجلاس،ایوان کی کارروائیوں کو پرسکون چلانے کیلئے نئے ضوابط متعارف

Sun, 20 Nov 2016 12:19:13    S.O. News Service

بنگلورو۔19؍نومبر(ایس او نیوز) 21 نومبر سے 2؍ دسمبر تک بلگام میں ہونے والے ریاستی لیجسلیچر اجلاس میں مہادائی مسئلہ سمیت شمالی کرناٹک کے سلگتے ہوئے مسائل پر بحث ہوگی۔ یہ بات آج ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے چیرمین ڈی ایس شنکر مورتی نے بتائی۔ اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اجلاس میں مہادائی مسئلے پر بحث کیلئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے، جوکہ ایک خوش آئند امر ہے۔انہوں نے کہاکہ بلگاوی لیجسلیچر اجلاس میں ہنگامہ آرائی نہ ہونے پائے اور ایوان میں وقفۂ سوالات اور صفر ساعت میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہونے پائے، اس کیلئے طے کیاگیا ہے کہ ایوان کی کارروائیوں کے ضوابط میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی سفارشات کے مطابق وقفۂ سوالات اور صفر ساعت سے پہلے کسی بھی موضوع پر تحریک التواء پیش کرنے کی اجازت قطعاً نہ دی جائے۔ وقفۂ سوالات اور صفر ساعت کے بعد ہی کسی بھی موضوع پر تحریک التواء بحث کیلئے داخل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایوان کی مشترکہ مشاورتی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں اس ضابطہ کو نافذ کرنے کی قرار داد رکھی جائے گی، اور اسے باقاعدہ تمام اجلاسوں کیلئے ایک ضابطہ کے طور پر اپنالیا جائے گا، ورنہ حسب معمول ایوان کی کارروائیاں چل نہیں پائیں گی۔عموماً ہنگامہ آرائی کی نذر ، وقفۂ سوالات اور صفر ساعت ہی ہوا کرتی ہیں۔ عوام کو درپیش سلگتے ہوئے مسائل پر ان ساعتوں میں حکومت کی توجہ مبذول کرانے کا موقع اراکین کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مشاورتی کمیٹی جو بھی فیصلہ لے گی ایوان کی کارروائیاں اسی کے مطابق چلیں گی۔انہوں نے بتایاکہ بلگام کے دس روزہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے ایوان بالا میں کوئی بل لانے کی تجویز نہیں رکھی گئی ہے۔ اس دس روزہ اجلاس میں 1267 سوالات منظور کئے گئے ہیں ، جن میں سے 245 کا جواب ایوان میں دیا جائے گا۔122 سوالات کا تحریری جواب دیا جائے گا۔ ایوان میں مختلف امور پر حکومت کو متوجہ کرانے کیلئے 146 توجہ دلاؤنوٹسیں موصول ہوئی ہیں اور ضابطہ 330کے تحت مختصر بحث کیلئے 54 تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین انور مانپاڈی کی طرف سے اوقافی املاک پر غیر قانونی قبضوں کے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کرنے چیرمین کی رولنگ کے باوجود ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک رپورٹ ایوان میں پیش نہ کئے جانے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے ، اسی لئے اس پر وہ برسر عام بحث سے گریز کرنا چاہیں گے۔


Share: